ایک دن میں اپنے دفتر سے نیچے اُترا اور اپنی دکان کے برآمدے میں اپنی گاڑی کے انتظار میں کھڑا ہو گیا۔ دیکھا تو وہاں ایک کار اور ایک موٹر سائیکل کا چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔ ایک طرف کار کا مالک ایک نوجوان لڑکا اور اس کی ماں تھے اور دوسری طرف ایک موٹر سائیکل والا عام سے گھر کا واجبی سا لڑکا۔
کار والا موٹر سائیکل والے لڑکے پر چِلا رہا تھا۔ شاید اُسی کی غلطی کی وجہ سے اُس کی موٹر سائیکل گاڑی میں لگی ہو گی اُس کی ماں اُسے کہہ رہی تھی کہ بیٹا معاف کر دو، اِسے معاف کر دو چھوڑ دو اِس کو! اور وہ کہہ رہا تھا کہ امی ہم ہی رہ گئے ہیں اِن لوگوں کو معاف کرنے کے لئے! یہ ہمیں معاف کیوں نہیں کرتے۔ تھوڑی سی تکرار ہُوئی ،ماں جیت گئی اور اُس نے موٹر سائیکل والے لڑکے کو چھوڑ دیا۔ بات تو ختم ہوگئی مگر اُس کا بیٹا ابھی بھی ناراض تھا ۔ پھر یہ دونوں ماں بیٹا سامنے ایک دکان میں چلے گئے۔
میں اپنی گاڑی کے انتظار میں وہیں کھڑا رہا ۔ دو تین منٹ کے بعد یہ دونوں ماں بیٹا دکان سے واپس آئے تو میں نے معذرت کر کے اُس لڑکے سے کہا بیٹا میں آپ سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔ وہ دونوں ہی میرے قریب آ گئے۔ میں نے کہا کہ ابھی آپ کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا تو آپ کی امی آپ سے کہہ رہی تھیں کہ بیٹا اُسے معاف کر دو اور آپ کہہ رہے تھے کہ ہم کیوں معاف کریں یہ ہمیں کیوں نہ معاف کریں۔ وہ لڑکا بیچ میں بولا کہ جی دیکھیے ناں غلطی بھی یہ کرتے ہیں اور ہر دفعہ معاف بھی ہمیں کرنا پڑتا ہے اور نقصان بھی ہمارا ہی ہوتا ہے ۔
میں نے کہا بیٹا میں آپ کو یہی بتانا چاہتا ہوں کہ آپ انہیں کیوں معاف کریں اور وہ آپ کو کیوں معاف نہ کریں تو بولا جی! میں نے کہا آپ اپنے آپ کا موازنہ اُس لڑکے سے کریں اور سوچیں اللہ تعالیٰ کی زیادہ رحمتیں کِس پر ہیں؟ اُس نے اچھے ماں باپ کس کو دئیے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم اور تربیت کس کا نصیب ہے۔ خوشحالی کس کو زیادہ دی ہے اور بھی بہت سی چیزیں آپ خود سوچ لیں آپ کو یا اُس کو اگر دیکھا جائے تو اُس لڑکے کے پاس تمہارے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ سارا کچھ تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں دے دیا تو مجھے بتائیں کہ دے گا کون؟ جس کے پاس زیادہ ہوگا یا جِس کے پاس کم ہو گا؟ سو جب بھی آپ کاجھگڑا آپ سے کم زور کے ساتھ جھگڑا ہو گا آپ کو ہی چھوڑنا پڑے گا۔ آپ کو ہی معاف کرنا پڑے گا اور اصل میں بات کا حُسن بھی اِسی میں ہے.اور یہ بات جو میں آپ سے کر رہا ہوں یہ اپنی عقل سمجھ سے کر رہا ہوں یہ تو مجھے بھی علم نہیں کہ اُس کی نظر میں کون خوش قسمت ہے۔ تو اس کی ماں بولی دیکھو بیٹا یہی بات میں تمہیں سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی۔
Related Posts
Add A Comment