لاک ڈاؤن کےدوران کوئی کام وام تو تھا نہیں۔ زندگی کا سارا نظام ہی درہم برہم ہوا پڑا تھا۔ شروع شروع میں تو سوئے ہی رہتے تھے ، بس کھانا کھانے کے لیے اُٹھتے تھے۔ کچھ دن کے بعد زیادہ سونے کی وجہ سے آنکھیں سُوجنا شروع ہو گئیں۔ بیزاری حد سے بڑھ گئی تو سوچا یا الہی کیا کام کریں کوئی کام تھا ہی نہیں۔

اچانک خیال آیا کہ دوستوں کو فون کرتے ہیں۔ اُن کی خیریت معلوم کرنے کے بہانے۔ اس طرح دوستوں کو بھی باور کرا سکیں گے کہ ہمیں اُن کا بہت خیال ہے اور اپنی بیزاری ختم ہو گی۔

پہلا فون اپنے ایک بے تکلف قریبی دوست کو کیا۔ پہلے تو اُس نے فون نہیں اٹھایا مگر کچھ دیر بعد اُس کی کال آ گئی۔ کال نہ اٹھانے کی وجہ پوچھی تو بولے میں بہت مصروف تھا۔ میں بہت حیران ہوا کہ اسے کیا کام مل گیا ہے۔ پوچھا تو کہنے لگا کہ گھر میں ہی کچھ کام کر رہا ہوں۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ساری مارکیٹیں بند کاروبار بند یہ کیا کام کر رہا ہے۔ اُس پر رشک آنے لگا سوچا کہ اسی سے پوچھتے ہیں شاید کوئی کام ہمیں بھی بتا دے۔ مگر وہ بتانے کے لیے تیار نہیں تھا دل کو بہت ٹھیس پہنچی۔ واقعی اس دنیا میں کوئی کسی کا نہیں۔ اُسے پھر پیار سے پوچھا ، پرانی دوستی کا واسطہ دیا کچھ نہیں بولا۔ جب میں تنگ آ گیا تو میں نے اُسے کہا کہ تمہیں پتا ہے کہ تمہارا یہ دوست تم سے ہمیشہ کے لیے تم سے جدا ہو رہا ہے تو گھبرا کر بولے کیا ہوا؟ خیریت تو ہے؟ تو میں نے کہا کہ میں اپنے گھر میں اس قدر بیزار ہوں کہ کرونا کی پرواہ کیے بغیر اپنے دفتر جا رہا ہوں ، کام کرنے کے لیے ، اکیلے ہی۔ یہ سُن کر وہ پھٹ پڑا اور کہنے لگا مجھے بھی ساتھ لے جاؤ۔

میں نے کہا تم تو مصروف ہو اور کام کر رہے ہو۔ تمہیں کیا ضرورت ہے تو کہنے لگا کہ جب تمہاری پہلے کال آئی تھی تو میری بیوی ہاتھ میں بیلن لیے مجھے دروازے کی جھَریوں میں سے مٹی نکالنا سکھا رہی تھی۔ جھاڑو پوچا تو مجھے پہلے ہی اُس نےسکھا دیا تھا۔ میں نے تمہیں کبھی بتایا نہیں ، کپڑے برتن تو میں بہت دیر سے دھو رہا ہوں آج کل میری بیوی مجھے نوکرانی سے وڈیو کال پر ٹرینگ دلا رہی ہے۔ صوفوں کے نیچے ، پردوں کے پیچھے ، پنکھے کے اوپر چولہے کے اندر کیسے صفائی کرنی ہے ، سب بتا رہی ہے۔ میں نے بھی اپنے بارے میں کچھ ایسا ہی بتایا اور ہم کافی دیر تک ہنستے رہے۔ اور بیویوں کو مزاق کرتے رہے۔

کہنے لگا آج کل انٹر نیٹ پر مردوں اور خاوندوں کے جتنے بھی لطیفے آ رہے ہیں سب اُنہی کے گھر سے چلتے ہیں پتا نہیں کون ہے جو ہمارے گھر میں دیکھتا ہے اور لطیفہ بنا کر انٹرنیٹ پر ڈال دیتا ہے۔ میں نے اُسے کہا لو میں سمجھتا تھا ہمارے گھر کے ہیں۔ ہم پھر ہنس پڑے۔

اس کے بعد میں نے اپنے ایک اور دوست کو فون کیا دعا سلام کے بعد میں نے پوچھا کیا خبریں ہیں تو بولا یونائیڈ نیشنز کے بارے میں جانتے ہو میں نے کہا ہاں تھوڑا بہت۔ کہنے لگا بہت مضبوط ادارہ ہے دنیا کے ہر ملک کے بارے میں جانتا ہے ہر شہر کے بارے میں جانتا ہے حتٰکہ ہر گھر کر بارے میں جانتا ہے اور اُتنا ہی جانتا ہے جتنا اُس گھر میں رہنے والا فرد اپنے گھر کے بارے میں جانتا ہے میں نے پوچھا وہ کیسے کہنے لگا کل تم نے اُن کے سیکرٹری جنرل کا ہمارے  گھر کے بارے میں بیان نہیں سُنا تو میں نے حیران ہو کر پُوچھا کی تمہارے گھر کے بارے میں؟ تو بولا ہاں تو میں نے پُوچھا کہ کیا تو کہنے لگا کہ

 

اُس نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن میں ڈومیسٹک والینس بہت بڑھ گئی ہے۔ پتا نہیں اُسے کیسے پتا چلا۔ تم بتا سکتے ہو کچھ اس بارے میں۔
مجھے لگا کہ یہ طنزا” مجھے کہہ رہا ہے  کیوں کہ اپنے گھر کے حالات تو مجھے پتا ہی تھے اس کے بعد تو اُس سے بات کرنی بنتی ہی نہیں تھی بس میں نے اُسے جلدی سے خدا حافظ کہا اور فون بند کر دیا۔

اس کے بعد میں نے اپنے ایک اور بہت ہی قریبی دوست کو فون کیا خیریت کے بعد پوچھا کیا کر رہے ہو تو بولا آلو کی بھنڈی کھا رہا ہوں تو میں نے حیران ہو کر کہا آلو کی بھنڈی؟ وہ کیا ہوتی ہے بہرالحال تم کھا لو میں پھر فون کرتا ہوں تو بولا نہیں نہیں ختم کر چکا ہوں بات کرو تم۔ میں نے پھر پوچھا کہ یہ آلو کی بھنڈی کیا ہوتی ہے۔ تو کہنے لگا یار کچھ دن پہلے گاؤں سے ایک بوری آٹا اور ایک بوری آلو آئے تھے۔ لاک ڈاؤن سے پہلے ہم کوئی سامان نہیں لا سکے۔ میری بیگم کو اُس کے بھائی نے سمجھانے کے لیے کہہ دیا کہ کرونا تمہارے گھر کے باہر کھڑا ہے اور کہہ رہا ہے کہ مجھے آ کر اندر لے جاؤ۔ تب سے بیگم نے دروازے کو اندر سے تالا لگا لیا ہے اور ہم آلو کھا رہے ہیں

پہلے دن صبح ناشتے میں بھنے ہوئے آلو کھائے دوپہر کو شوربے والے آلو کھائے اور رات کو اُبلے ہوئے۔ دو تین دن تو اسی طرح چلتا رہا پھر اپنی بس ہو گئی اور آلو بھی کرونا جیسے لگنے لگے تو میں نے اپنی بیگم سے کہا کہ دروازہ کھولو میں باہر سے بھنڈی لے کر آتا ہوں۔ آج بھنڈی کھانے کو بہت دل چاہ رہا ہے۔ وہ نہیں مانی۔ میں ضد کرنے لگا۔ جب پھر بھی وہ نہ مانی تو میں نے بھی بچوں کی طرح ضد پکڑ لی اور کہا کہ چلو میں باہر نہیں جاتا پر تم دروازہ تو کھولو۔ پوچھنے لگی اگر باہر نہیں جانا تو پھر دروازہ کیوں کھولوں تو میں نے کہا میں نے کرونا دیکھنا ہے۔ اس پر اُس نے جھٹ سے اپنے بھائی کو پھر فون کر کے پوچھا پتا نہیں اُس نے کیا کہا مگر فون بند ہوتے ہی میری بیگم نے تالے کی چابی گھر سے باہر پھینک دی

اُس وقت ٹی وی پر کوئی یہ شعر پڑھ رہا تھا۔

اندر بیوی باہر کرونا
زندگی ہے یا خواب ڈرونا

میں نے شعر سننے کے بعد اُس کی طرف دیکھا اور اندر آ کر بھوک ہڑتال کردی اور کہہ دہا کہ جب تک مجھے بھنڈی نہیں ملے گی میں کھانا نہیں کھاّؤں گا دو گھنٹے کے بعد بیوی آئی اور بولی چلو اُٹھو بھنڈی بنائی ہے۔ جا کر میں حیران رہ گیا اور دیکھا کہ واقعی بھنڈی تھی میں نے پوچھا یہ کہاں سے آئی تو کہنے لگی آلووں کی بنائی ہے میں نے پوچھا وہ کیسے۔ تو کہنے لگیں آلو ابال کر اُن کی پیسٹ میں مصالحے ڈال کر بھنڈی جیسی شکل بنائی گملے سے سبز دھنیا توڑ کر رنگ کے لیے اُس کے پتے اوپر لگائے پھر اُس کے اندر مرچوں کے بیج ڈال کر اُسے فرائی کر لیا۔ وہ کہہ رہی ہیں کہ اب گھر میں آلو کبھی نہیں پکیں گے ہر روز نئی ڈِش ملا کرے گی۔ کبھی آلووں کے ٹنڈے کبھی آلووں کے بینگن کبھی آلووں کے لیگ پیسن اور کبھی آلووں کی چانپیں وہ تو کہتی ہیں کہ اب میں آلو کے سِری پائے بھی بنایا کروں گی مگر گھر سے باہر کوئی نہیں جائے گا۔
کافی دہر تک تو میں حیران ہو کر خاموشی سے یہ سب کچھ سنتا رہا پھر پیار سے اپنی بیوی کی طرف دیکھا اور دو تین مرتبہ ہیلو ہیلو اور پتا نہیں آواز کیوں نہیں آ رہی” کہہ کر فون بند کر دیا۔ اب پتا نہیں کیوں کچن میں جاکر میرا اپنی بیوی کے ساتھ کام کرنے کو خود ہی دِل چاہ رہا ہے۔ آج میں کسی اور کو فون نہیں کروں گا بلکہ گھر کے ہی کام کاج کروں گا۔

Share.

Leave A Reply

shop