ہمارے ہمسائے میں بہت نیک اور شریف لوگ رہتے تھے اُن کے دو بچے تھے۔ ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔ اُن کی بیٹی ہماری بیٹی کی کلاس فیلو تھی اِن دونوں کی آپس میں بہت گہری دوستی تھی۔ یہ دونوں ہر وقت اکٹھے ہنستی کھیلتی تھیں اور خوش رہتی تھیں۔ اِن کی وجہ سے ہمارے گھروں میں بہت رونق تھی اور ہمیں لگتا تھا کہ ہماری ایک نہیں بلکہ دو بیٹیاں ہیں۔ وقت گزرتا گیا دونوں بڑی ہو گئیں شادی کے بعد اپنے اپنے گھروں میں جا بسیں۔
ایک دن میں اپنے گھر سے باہر نکلا تو دوسری طرف سے وہ لڑکی اپنی بیٹی کے ساتھ اپنی امی سے ملنے کے لیے آ رہی تھی۔ اِس نے مجھے سلام کیا تو میں نے اُسے دُعا دی اور اُس کی بیٹی کو ماشااللہ کہا۔ اُس کا حال احوال پُوچھنے کے بعد میں نے اُس بچی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
اِس کو بتا دیا ہے کہ یہ کِن کی بیٹی ہے۔
وہ حیرانی سے کہنے لگی
میری بیٹی ہے اور کِس کی ہے۔
تو میں نے کہا نہیں بیٹا اب وہ بڑی ہو رہی ہے سچ بتا دو اُسے۔
وہ پھر کہنے لگی کہ میری بیٹی ہی تو ہے۔
میں نے کہا اچھا بھئی نہیں بتانا تو نہ بتاؤ،
وہ مُسکرا کر کہنے لگی چلیں آپ ہی بتا دیں کہ یہ کِن کی بیٹی ہے
میں نے اُس بچی کی طرف پیار سے دیکھا اور کہا یہ تو ہماری بیٹی ہے اور کِس کی بیٹی ہے۔
وہ خوش ہو گئی اور بولی یہ تو میں مانتی ہُوں۔

وہ بچی معصومیت سے کہنے لگی
امی میں اِن کی بیٹی کِس طرح ہُوئی
میں نے کہا کہ دیکھو بیٹا میں تمہیں سمجھاتا ہوں

کچھ سال پہلے ایک دفعہ رات کو عشاء کے بعد کی بات ہے۔میں نے اور تمہاری انٹی نے اپنے ہاتھ اُٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا اور اللہ تعالیٰ سے دُعا مانگی
کہ یا الہی اپنی رحمت سے ہمیں ایک پیاری سی ، خوب صُورت ، نیک سیرت ، ذھین ، لائق اور خوش قسمت بچی عطا فرما۔
ہم نے یہ بھی سوچا کہ ہم ہر روز اِسی طرح ہر دُعا مانگا کریں گے۔
پھِر ہم نے روزانہ ہی دُعا مانگنا شروع کر دی۔ جب بھی ہم آسمان کی طرف دیکھ کر دُعا مانگتے تو ہمیں آسمان پر بہت سے ستارے نظر آتے اُن میں ایک جگہ پر سات ستاروں کا ایک جھُرمٹ نظر آتا۔ ایک دِن ہم نے دیکھا کہ وہاں ستاروں کے اُس جھُرمٹ کے درمیان ایک اور ستارہ ٹمٹما رہا ہے بالکل چھوٹا۔ چُنا مُنا سا۔ ہم بہت حیران ہوئے۔ یہ ستارہ ہمیں اِس سے پہلے کبھی نظر نہیں آیا تھا۔ اب ہم روزانہ اُس ستارے کو دیکھنا شروع ہو گئے۔

پھِر ہر روز وہ ستارہ بڑا ہونا شروع ہو گیا۔ بڑا، بڑا، بڑا اور بڑا۔ ہم حیران ہوتے رہے۔

سب سے زیادہ حیران تو ہم اُس دن ہُوے جب ہم نے دیکھا کہ وہ ستارہ تھوڑا سا ہماری طرف آگے آ گیا تھا۔ ہم خوش ہو گئے ۔

پھِر وہ ستارہ ہر روز ہماری طرف بڑھنا شروع ہو گیا۔ آگے، آگے آگے اور آگے۔
اب تو بھئی ہماری خُوشی کی تو کوئی انتہا نہ رہی۔ ہمیں لگا کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری دُعا سُن لی ہے۔

پھِر ایک دِن جب ستارہ کافی نزدیک آ گیا تو ہم نے دیکھا کی اُس کے اندر ایک پیاری سی بچی تھی جو ہماری طرف دیکھ رہی تھی
پُوچھو وہ کون تھی۔
وہ کہنے لگی وہ کون تھی
تو میں نے کہا تُم تھیں اور کون تھی
پھر کچھ دِن کے بعد جب وہ ستارہ اور نزدیک آیا تو ایک دن تم نے ہماری طرف دیکھ کر ہاتھ ہلایا
تب تو ہمارا دِل چاہا کہ ہم اُڑ کر تمہیں پکڑ لیں۔
تُم تو ہماری طرف دیکھ کر ہم سے باتیں بھی کرتی تھیں جو دور ہونے کی وجہ سے ہمیں سُنائی نہیں دیتی تھیں
پھِر ایک دِن تُم بہت ہی نزدیک آ گئیں اور تمہاری آواز بھی ہمیں سُنائی دینا شروع ہو گئی۔ تم نے ہم سے بہت ساری باتیں کیں اور ایک اپنا ہولی کوڈ بتایا۔ اور یہ بھی کہا کہ یہ ہولی کوڈ کسی کو بتائیے گا نہیں۔ کیونکہ جِس کے پاس یہ کوڈ ہوگا وہی مجھے نیچے اتار سکے گا۔ اور یہ بھی کہا کہ کچھ دیر میں مَیں آپ لوگوں کے گھر میں اُترنے والی ہوں۔ ہم نے جلدی جلدی اپنی چھَت پر فوم کے گدے رکھے ہر طرف رُوئی بچھائی اور اُس کے اُوپر گلاب کی پتیوں کا ڈھیر لگایا. تاکہ تمہیں چوٹ نہ لگے۔
ہم تمہارا انتظار کر ہی رہے تھے کہ تمہاری امی نے تمہیں دیکھ لیا۔ تم آ تو اُسی طرف سے جو آ رہی تھیں۔ تم اُوپر تھیں اور تمہاری امی کا ہاتھ نہیں پہنچ رہا تھا تمہاری امی نے تمہارے ابا کس آواز دی اور اِن دونوں نے مِل کر تمہیں پکڑ لیا۔ مگر وہ تمہیں نیچے نہیں اتار سکتے تھے کیونکہ ہولی کوڈ تو ہمارے پاس تھا۔
ہم نے بھی کہا جاؤ لِے جا کر دکھاؤ اِسے۔
پھر انہوں نے تمہارے ماموں کو آواز دی اور کہا کہ اپنا لیپ ٹاپ لِے کر اُوپر آؤ۔
تمہیں تو پتا ہے کہ تمہارے ماموں تو کمپیوٹر کے استاد ہیں اُنہوں نے تمہاری امی کو ہولی ورڈز پڑھنے کے لیے کہا خود اپنی اُستادی دکھائی اور اُس ہُولی کوڈ کو ڈی کوڈ کر لیا۔ اور تمہیں اپنے گھر لِے گئے۔
تمہاری آنٹی نے رونا شروع کر دیا۔
کہنے لگیں کہ ہم اُن کے گھر سے اپنی بچی لِے کر آتے ہیں۔ مگر ہم تمہارے ماموں کے غصے سے بہت ڈرتے تھے۔
وہ لڑکی بولی
میرے ماموں کو تو غصہ آتا ہی نہیں آپ لوگ کیوں ڈرتے تھے۔
میں نے کہا
تمہارے سامنے نہیں آتا۔ اور اِن سے صرف ہم تھوڑی ڈرتے ہیں اِن سے تو پُورا محلہ ڈرتا ہے۔
کہنے لگی۔
آپ کو کیسے پتا ہے
تو میں نے کہا کہ ایک دفعہ ہم اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ بھونچال آ گیا۔ زلزلہ! ہمارا سارا گھر ہلنے لگا۔ کھڑکیاں دروازے کانپنے لگے۔ ہم سب گھر والے کلمہ پڑھتے ہوئے اپنے گھر سے باہر نکل آئے۔
باہر دیکھا تو محلے کے سب لوگ اپنے اپنے گھروں سے نِکل کر کھڑے تھے۔
میں نے سامنے والے ملک صاحب سے کہا کہ زلزلہ بہت زیادہ تھا۔
وہ بولے زلزلہ! کون سا زلزلہ۔
میں نے کہا ابھی ہمارا سارا گھر ہِل رہا تھا اور کھڑکیاں دروازے کانپ رہے تھے۔
کہنے لگے وہ تو سامنے والوں کے بیٹے کو غصہ چڑھا ہُوا تھا۔ ہم سب اُسے سمجھانے کے لیے ہی نِکلے ہیں مگر کِسی کی ہِمت نہیں پڑ رہی۔
اِس لیے ہم بھی ڈر گئے اور چُپ کر کے واپس اپنے گھر کے اندر چلے گئے۔ مگر ہم روئے بہت تھے۔
پھر ہمیں پتا چلا کہ یہ لوگ تم سے بہت پیار کرتے ہیں تو ہمیں تسلی ہو گئی کہ تم اچھے لوگوں کے گھر میں ہو۔
آج تُم نظر آ گئی ہو تو میں نے سوچا تمہیں بتا دوں
وہ کہنے لگی
مگر میں تو اب اِنہی کی بیٹی ہوں۔
میں نے کہا کہ وہ تو میں مانتا ہوں۔ اب تو بس تُم ہمیں کبھی کبھی یاد کر لیا کرو۔ اور آتے جاتے مِل لیا کرو۔

Share.

Leave A Reply

shop