ایک دوست کی طرف سے آموں کا تحفہ بھیجنے پر
آپ کے بھیجے ہوۓ آموں کا تحفہ ملا- پیٹی کے اوپر تاریخ ڈھونڈنے کی کوشش کی شاید کورئیر کے ہاتھوں مٹ سی گئی تھی۔ جب نہ ملی تو پیٹی کو ایک طرف سے تھوڑا سا کھول کر اُس کے اندر جھانکا۔ اِس قدر خوبصورت آم ، گہرے سبز رنگ کے اور خوب پلے ہوۓ جیسے سب درختوں نے اپنا اپنا دل نکال کر اُن میں ڈال دیا ہو اور چُننے والے نے ساری محبت! جی چاہا کہ انہیں ایسے ہی کھا لیا جائے مگر اُنہیں ہوا لگ جانے کے ڈر سے فورا” ہی بند کر دیا اور اُن کے پکنے کا انتظار کرنے لگے۔
آج ان میں سے کچھ آم نکالے ، دیکھا تو دیکھتے ہی رہ گئے۔ شاندار پیلا رنگ ، چمک ایسی کہ ستاروں کی طرح۔ خوشبو جو بکھری تو سارے گھر میں پھیل گئی اور مہک ایسی کہ بہاروں کی طرح۔ جب کاٹے تو سنہرے پیلے رنگ کا گُودا، شہد کی طرح میٹھا اوپر سے ان میں سے ٹپکتا ہوا رس جنت کے نظاروں کی طرح۔
غالب جو آموں کے اتنے دلدادہ تھے لگتا ہے کہ اُنہیں آم اِسی باغ سے جاتے ہوں گے کیونکہ سُنا ہے کہ آم کا درخت تین سو سال تک پھل دے سکتا ہے اگر یہ گمان درست نکلا تو اِن آموں نے تو ہم سب کھانے والوں کی مرزا غالب سے نسبت بنا دی۔
آم کھاتے ہوئے سب بولے یہ آم تو بہت لاجواب ہیں میں نے کہا اس لیے کہ ان پر رنگ پیار کا چڑھا ہوا ہے ان کی خوشبو میں چاہت ملی ہوئی ہے اور ان کا ذائقے میں محبت گھُلی ہوئی ہے اور یہ کسی خاص اپنے نے خلوصِ دل کے ساتھ بھیجے ہیں۔ اس پر وہ بولے آپ نے شکریہ ادا کر دیا تو میں نے کہا سمجھ نہیں آتا کیسے ادا کروں کیوںکہ اُن کی اِس محبت کے لیے شکريے کا لفظ بہت چھوٹا ہے
پھر بھی بہت شکریہ ، بےحد شکریہ