الفاظ میں بہت طاقت ہے۔ اتنی کہ یہ کچھ بھی کر دیں۔ مگر اِن سےکہیں زیادہ طاقت جزبات میں ہے جو دل میں ہوتے ہیں۔ اور ایسے الفاظ تو ہیں ہی نہیں جو
جزبات کی ترجمانی کر سکیں۔ جزبات ایک طوفان کا نام ہے جو دل کے اندر برپا ہے۔ اگر اندر کے اِس طوفان کو الفاظ مِل جائیں تو یہی طوفان باہر بھی برپا ہو جائے