جب ساون کی مخمور گھٹائیں چھا جائیں۔ بادل رم جھم رم جھم برسنے کو تیار یوں۔ شرارتی بوندیں موسم کی دیوانگی کے ساتھ اٹھکیلیاں کرنے لگیں ، ٹھنڈی ہوائیں کچن میں پڑے آلو اور پیاز کو جوش دلا دیں۔اور وہ ان شوخ ہواؤں کی دلکش اداؤں کی چھیڑ چھاڑ سے موسم کی رعنائیوں پر کٹ مرنے کے لیے تیار ہوں تو اُن کا ساتھ دینے کے لیے پاس پڑے گرم مصالحے اِس ٹھنڈے موسم کے جزبات میں بہہ کر اُن میں رچ بس جائیں اور وہ سب بیسن کی نرم و ملائم اور ریشمی شال اوڑھ کر فرحت جزبات سے کھولتے ہُو ے تیل کی پرواہ کیے بغیر اُس میں چھلانگیں لگا کر شوخیاں کرنے لگیں اور اچھلتے کودتے ناچنے گاتے چُلبلے پکوڑوں میں ڈھل کر اتنا ناچیں اتنا ناچیں کہ اُن کے کانوں کی لَو سرخ ہو کر چمکنے لگے اور چہرہ خوشی سے دمکنے لگے تو اُن سنہری پکوڑوں کو پیار سے پہلے سے تیار رکھی گئی ایک سفید پلیٹ میں نکال لیں اور اُن کے ارد گرد بہت سی چنچل ، شوخ اور حسین چٹپٹی چٹنیاں سجا دیں ، کہیں کھٹی ، کہیں میٹھی، کہیں تُرش، کہیں کراری، کہیں اِملی آلو بخارے کی اور اسی اثناء میں اگر کہیں سے سَر دھنتے دھنتے دھنیے پودینے کی چٹنی بھی دہی کے ساتھ آ جائے تو کیا کہنے۔ ایسے وقت میں پکوڑوں کے کان ایک ہی لفظ کے منتظر ہوں گے اور وہ لفظ ہے کیچ اَپ! یہ لفظ سنتے ہی پکوڑوں کا چٹنیوں کے ساتھ لپٹ لپٹ کر اُن کی خوشی کا اظہار دیکھیں۔ اِس دوران اگر وہ اچھل اچھل کر آپ کے ہونٹوں کو چُوم لینا چاہیں اور آپ کی ناک اُن کی خوشبو سے آپ کے منہ کو بے تاب کر کے اُس میں پانی بھر دے تو اپنی زبان کو اُن کی لزت سے روشناس کرانے کے لیے آپ اُنھیں اپنے ہاتھوں سے پکڑ کر محبت کے ساتھ اپنے منہ میں رکھیے پھر زبان کے ساتھ ان کے راز و نیاز کی سرگوشیاں سنیے اور اشارے سمجھیے ، کبھی زبانِ تر کے سوالات اور اُن کے کرارے جوابات سنیے اسی دوران پیٹ کا انتظار بھی ملاحظہ ہو اور اُس کی بے تابی بھی۔ اِس دوران اگر کوئی اور صاحب بھی آپ کے ساتھ اِس نظارے سے لطف اندوز ہو رہے ہوں تو آپ اپنا دھیان خالی ہوتی ہوئی پلیٹ پر بھی رکھیے۔