میں فرسٹ ائیر میں پڑھتا تھا۔ اُس وقت مجھے موٹر سائیکل کا بہت شوق تھا۔ ہمارے ہمسائے میں ایک لڑکے کے پاس ایک نئی موٹر سائیکل تھی۔ وہ رات کے وقت اُس کی ہیڈ لائیٹ بند کر دیتا اور اُس کے چاروں اشارے جلا دیتا ، رات کے اندھیرے میں جلتی بُجھتی لائیٹوں کے ساتھ آتی ہوئی موٹر سائیکل مجھے بہت مسحور کرتی تھی اور میں اُس کے سحر میں کھو جاتا تھا۔ اُس کی وجہ سے میرا موٹر سائیکل چلانے کا شوق اور بھی بڑھ گیا
جب مجھے موٹر سائیکل ملی تو میں نے سب سے پہلے اُس کا فلیشر ہی نیا لگوایا جس سے چاروں اشارے اکٹھے بھی جلنے بجھنے لگے۔
دو تین روز بعد ہی کی بات ہے کہ ایک دِن مغرب سے ذرا پہلے میں اپنے گھر سے نکلا اور ناز و ادا کے ساتھ اِدھر اُدھر موٹر سائیکل پر گھُومنا شروع کے دیا۔ پھر میں نے اُس کا رُخ لبرٹی مارکیٹ کی طرف موڑ دیا۔ وہاں سے مین بلیوارڈ اور ظہور الہی روڈ سے خِراماں خِراماں ایف سی کالج پہنچا جہاں میں پڑھتا تھا۔ بند کالج کو دُور ہی سے سلام کیا اور واپسی کی راہ لی۔ رات کا اندھیرا چھانے لگا تھا۔ جب میں نے اپنی موٹر سائیکل کی ہیڈ لائیٹ جلائے بغیر چاروں اشاروں کے جلنے بجھنے والا بٹن دبایا تو مُجھے ایسا لگا کہ میں نے اپنی خوشی اور مسرت کا بٹن دبا دیا ہے۔ اپنے خوابوں کو پا لینے کی اِس خوشی میں گُم چلتے چلتے جونہی میں نے ظہُور الہی روڈ کے گول چکر پر پہنچا تو میرے پیچھے سے آتے ہوئے پولیس کے ایک اے ایس آئی نے اپنی موٹر سائیکل میرے برابر لا کر مُجھے رُکنے کا اشارہ کیا۔ میں نے پُولیس کی عوام کے ساتھ خِدمت کے قِصے تو بہت سُن رکھے تھے مگر میرا کبھی اُن سے واسظہ نہیں پڑا تھا۔ ساری خوشی رفُو چکر ہوگئی۔ خُون خُشک ہو گیا۔ موٹر سائیکل کے اشاروں کے ساتھ ساتھ میرا دِل بھی بُجھ گیا اور دماغ میں پُولیس کے سلُوک کی فِلمیں چلنے لگیں۔ مجھے لگا کہ میری قسمت مُجھ سے رُوٹھ گئی ہے۔ بہرالحال میں نے موٹر سائیکل ایک طرف کر کے روک لی اور دِل میں کہا
لَو جی مَر گئے آج۔
وہ پنجابی میں بولا
پُتر جی کہیڑی ایمرجینسی پئے گئی اے۔ کِدھر چلیاں نیں سرکاراں۔
اشارے اگ بجھون والے تے چال اے موراں ورگی۔
ہیڈ لائیٹ کیوں نہیں بالی۔
چلو کاغذ دکھاؤ۔
میں نے کاغذات دکھائے۔ اُس نے کاغذات اپنے ہاتھ میں پکڑے اور کہنے لگا
تھانے جا کے کردے آں چیک۔ تھواڈے کاغذ وی تے تھوانوں وی۔
ٹُرے آؤ میرے پیچھے پیچھے۔
پہلے جل تُو جلال تُو پڑھا پھر میں نے ہیڈ لائیٹ جلا لی۔ مجھے پہلی دفعہ ہیڈ لائیٹ کا فائدہ سمجھ آیا اور موٹر سائیکل کے ساتھ لگے ہُوے ہی اشارے بُرے لگنے لگے۔
چند قدم پر تھانہ تھا۔ جب تھانے کے لیے دائیں مُڑے تو میں نے مُڑتے ہُوے بھی اشارا نہیں دیا۔ تھانہ دیکھ کر اللہ کے بعد میں اُسی سے ڈرا۔
تھانے لِے جا کر اُنہوں نے مُجھے اپنے کمرے میں پڑی ایک چارپائی کی طرف اشارہ کیا اور کہا
بیھہ جاؤ ایتھے۔ تصدیق کروانے آں تھواڈے کاغذاں دی۔ پہلے تھواڈی تے کر لئیے۔
پھر سوالات کے سِلسلے شروع ہو گئے۔
نام پتا بتاؤ؟ کہاں رہتے ہو؟ کیا کرتے ہو؟ وغیرہ وغیرہ
میں نے سارے سوالوں کے جواب دیے۔
پھِر پُوچھنے لگے
ابا کیا کام کرتے ہیں؟
میں نے کہا
جی دکان ہے اُن کی۔
کِس چیز کی؟
جی کتابوں کی۔
پھر اُنہوں نے ایک آخری سوال پُوچھا جو سب سے خطرناک تھا۔
کہنے لگے
ابا کا فون نمبر بتاؤ۔
چار و ناچار دِل کڑا کر کے بتا دیا اُس وقت خیال آیا کہ تھانہ ہی ٹھیک تھا کیونکہ ابھی تک تھانے کا سلُوک گھر جیسا ہی تھا۔ رعب پُورا کہنا کُچھ نہیں۔
اور وہ صاحب خاموشی سے اُٹھ کر چلے گئے۔ اُن کا خاموشی سے یوں جانا کِسی آنے والے طُوفان کا عندیہ تھا۔ یہ اندازہ نہیں تھا کہ طُوفان تھانے کی طرف سے آئے گا یا ابا کی طرف سے۔ میری کشتی تو پہلے ہی بھنور کے درمیان پھنسی ہُوئی تھی۔
دور کہیں ریڈیو پر پتا نہیں کون سا گانا چل رہا تھا مگر میرے کانوں میں “میری کشتی پار لنگھا دے وے” کی آواز سُنائی دے رہی تھی۔ اِس گانے میں جس درد سے وہ فریاد کرتی ہے۔ اُس سے کہیں زیادہ درد میرے دل میں تھا اور وہ فریاد بھی رو رو کر کر رہا تھا۔
اُدھر جب تھانے سے فون گیا تو میرے ابا کے ایک قریبی دوست اُن کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ گورنمنٹ کے ایک بہت اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ اُن دِنوں وہ یُو این او کے ایک پراجیکٹ پر کام کر رہے تھے اور
اپنے دفتر کے بعد روزانہ ہماری دکان پر گھنٹوں میرے ابا کے ساتھ بیٹھے رہتے تھے۔ اُنہیں میں چچا جان کہتا تھا۔ اُنہیں دفتر سے یُو این او کی طرف آئی ہوئی ایک نیلے رنگ کی
UN-X-68…
نمبر کی نئی جیپ مِلی ہُوئی تھی. میرے ابا اور وہ دونوں ہی ڈرائیور کے ساتھ جیپ میں بیٹھے اور تھانے آ گئے۔ تھانے کے گیٹ کھڑے سنتری نے اُنہیں سیلوٹ کیا اور گیٹ کھول دیا۔
جیپ جب تھانے کے اندر گئی تو وہاں ایک قِسم کی تڑتھلی ہی مچ گئی۔ تھانے کی ساری پُولیس اُن کی جیپ کے اِرد گِرد جمع ہو گئی۔ ایس ایچ او صاحب بھی بھاگے بھاگے آئے۔ بات پتا چلی تو جب ایس ایچ او نے اپنے ایک سپاہی کو مجھے لانے کے لیے کہا تو ہمارے ڈرائیور صاحب بھی اُس کے ساتھ ہی ہو لیے
اُنہوں نے آ کر اُس اے ایس آئی کو گھُور کر دیکھا اور مجھے کہا چلو جی۔
ساتھ ہی پھر اے ایس آئی سے مخاطب ہُوئے۔
تُوسیں پھڑیا سی ایہناں نُوں
اُس نے ابھی جواب بھی نہ دیا تھا کہ کہنے لگے
تُوسیں وی نال ای چلو صاب کول۔ دُعا سلام ای کر آؤ۔
ہم دونوں ہی اُن کے ساتھ آ گئے اور وہ بے چارہ چُپ سا ایک طرف کھڑا ہو گیا۔
لوگ ساری عمر مجھے کہتے رہے کہ تم ڈرائوروں کو سر پر چڑھا کر رکھتے ہو اور پُوچھتے رہے کہ تُم ڈرائیوروں سے اتنا پیار اور اُن کی اتنی خاطر مدارت کیوں کرتے ہو۔
اُن بے چاروں کو کیا پتا یا اُن کے ساتھ کون سا کوئی حادثہ پیش آیا ہو گا۔
میرے چچا نے مُجھے پُوچھا کہ کُچھ کہا تو نہیں کِسی نے۔
میں نے پہلے تو اُن اے ایس آئی کی طرف دیکھا اور پھر کیا کہ
نہیں
اِس کے علاوہ کوئی اور بات نہیں ہُوئی
مجھے اُنہوں نے کہا اپنی موٹر سائیکل لو اور ہمارے آگے آگے چلو۔
ابا خاموش رہے۔
مجھے سب سے زیادہ ڈر اُن کی خاموشی سے ہی لگتا تھا۔
بہرالحال میں وہاں سے چھُوٹ کر گھر آ گیا۔ لگتا تھا کہ کھجور میں اٹکوں گا مگر بچ گیا۔
اُس دِن اُس کی رحمت پر میرا یقین اور بھی بڑھ گیا کہ اگر کوئی دِل درد سے لبریز ہو کر فریاد کرے تو وہ ضرور سُنتا ہے۔
کچھ دِن بعد میں اور میرا ایک دوست لبرٹی مارکیٹ میں سموسے کھا رہے تھے۔ وہاں اور لوگ بھی تھے۔ اچانک میں نے اپنی گردن گھمائی تو دیکھا کہ ساتھ ہی وہی اے ایس آئی ایک اور اے ایس آئی کے ساتھ کھڑا تھا نظریں چار ہُوئیں تو دعا سلام کے بعد مُسکرا کر ساتھ والے سے کہنے لگا۔
ایہی سی جھیڑا اُس دن مینوں مروا دین لگا سی۔
میں نے بھی مسکرا کر کہا
بندوبست تے تُوسیں میرا کیتا سِی۔
کہنے لگا
وہ صاحب کیا کرتے ہیں جو تمہارے ابا کے ساتھ آئے تھے۔
آج پہلی مرتبہ اُنہوں نے پنجابی کے بیچ اُردو میں بات کی۔
میں نے ہنس کر کہا
اُنہیں سے پُوچھ لیتے ، آئے تو تھے وہ تمہارے پاس۔
گردن ہلاتے ہُوے مسکرائے ، بولے کچھ نہیں
پھِر پنجابی پر آ گئے ، کہنے لگے
کی لگدے نہیں اوہ تیرے
میں نے کہا اوہ میرے چاچا نیں۔
تے تُوں اوہناں بارے اوس دِن کیوں نہیں دسیا۔
میں نے مُسکرا کر کہا تُوسیں تے پُوچھیا ای ابے دے بارے سی چاچے دا تے تُوسیں پُوچھیا ای نہیں سی۔
وہ بھی مسکرانے لگا اور اُس کے ساتھ والا اُس کی طرف دیکھ کر زور سے ہنسا۔
میں نے کہا ہلے تے میں تھوانوں ایہہ نہیں پتا کہ میرا وَڈھا ماما کی کردا اے
یہ ہنس پڑا اور اس کے ساتھ والا تو ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گیا اور اُسے کہنے لگا
ہُور پُچھ
یہ ہنستے ہوئے کہنے لگا،
اوہ وی دَس دے فیر۔
میں نے بھی ہنستے ہوئے کہا
جِس دِن فیر پھڑیں گا اُس دِن دَساں گا
وہ ساتھ والے پر پھر ہنسی کا دورہ پڑ گیا
اُسے کہنے لگا
ایہہ چنگے ٹکرے نیں تینوں۔ اج تک تینوں وی کوئی ٹکریا ای نہیں سی۔
یُوں میری اُن سے دوستی ہو گئی بلکہ تب تو سارے تھانے والے ہی پہچاننے لگے تھے مُجھے۔
اچھے لوگ تھے یہ یا ہو سکتا ہے کہ چاچے کو دیکھ کر یا وڈھے مامے کا سُن کر اچھے ہو گئے ہوں۔ خدا جانے۔
ویسے اُس دِن کے بعد اشارے مجھے بُرے لگنے شروع ہو گئے تھے۔ اور میں یہ بھی سوچنا شروع ہو گیا تھا کہ موٹر سائیکل بنانے والے موٹر سائیکل پر اشارے لگاتے ہی کیوں ہیں۔ اُس واقعہ نے میری زندگی پر بہت گہرا اثر ڈالا۔ میرے ابا کے کئی دوست اکثر اُنہیں کہتے تھے
پا جی تھواڈا مُنڈا موٹر سائیکل بڑے آرام نال چلاندا اے ایہنوں کینج سمجھایا اے
وہ ہنس کر کہتے تھے۔ اسیں کِتھے سمجھایا اے ۔ باہروں ای کِدھروں سمجھ کے آیا اے ایہنوں ای پُچھ لوو۔