Author: W Iqbal Majid
دروازے کی گھنٹی بجی۔ ابھی ہم سوچ ہی رہے تھے کہ کون ہو گا کہ کھانوں کی خوشبو اندر آگئی اور سارے گھر میں چھا گئی۔ اُس نے تو دھوم مچادی تھی کہ میں کسی اپنے کی طرف سے آئی ہوں۔ یوں لگتا تھا کہ یہ گھنٹی کھانے نے ہی بجائی تھی۔ وہ اندر آنے کے لیے اتنا بے تاب تھا کہ اُس نے بغیر انتظار کیے خوشبو کو اندر بھیج دیا۔ خوشبو کا جادو تھا یا جادو کی خوشبو ، کچھ کہہ نہیں سکتے مگر اُس نے سب پر اپنا سحر طاری کر دیا۔ اِس سے پہلے کہ کوئی…
ایک دوست کی طرف سے آموں کا تحفہ بھیجنے پر آپ کے بھیجے ہوۓ آموں کا تحفہ ملا- پیٹی کے اوپر تاریخ ڈھونڈنے کی کوشش کی شاید کورئیر کے ہاتھوں مٹ سی گئی تھی۔ جب نہ ملی تو پیٹی کو ایک طرف سے تھوڑا سا کھول کر اُس کے اندر جھانکا۔ اِس قدر خوبصورت آم ، گہرے سبز رنگ کے اور خوب پلے ہوۓ جیسے سب درختوں نے اپنا اپنا دل نکال کر اُن میں ڈال دیا ہو اور چُننے والے نے ساری محبت! جی چاہا کہ انہیں ایسے ہی کھا لیا جائے مگر اُنہیں ہوا لگ جانے کے ڈر…
مچھلی تو زندگی میں کئی دفعہ کھائی مگر آپ کی بھیجی ہوئی مچھلی تو بہت ہی کمال کی تھی۔ نہ ایسی مچھلی کبھی دیکھی نہ کبھی کھائی۔ مجھے یہ بتانے کے لیے کہ مچھلی آ گئی ہے، سب سے پہلے تو خوش بُو آئی وہ خود ہی اتنی پیاری تھی کہ دل و دماغ پر چھا گئی۔ میں نے سوچا کہ جو خوش بُو اتنی پیاری ہے تو مچھلی کیسی ہو گی یا الہی یہ کیا! خوش بُو کے پیچھے پیچھے آپ کے ڈرائیور صاحب ایک بڑا سا دیگچا اٹھائے ہوئے اندر آ گئے۔ دیگچے کو دیکھ کر سب سے…
جب ساون کی مخمور گھٹائیں چھا جائیں۔ بادل رم جھم رم جھم برسنے کو تیار یوں۔ شرارتی بوندیں موسم کی دیوانگی کے ساتھ اٹھکیلیاں کرنے لگیں ، ٹھنڈی ہوائیں کچن میں پڑے آلو اور پیاز کو جوش دلا دیں۔اور وہ ان شوخ ہواؤں کی دلکش اداؤں کی چھیڑ چھاڑ سے موسم کی رعنائیوں پر کٹ مرنے کے لیے تیار ہوں تو اُن کا ساتھ دینے کے لیے پاس پڑے گرم مصالحے اِس ٹھنڈے موسم کے جزبات میں بہہ کر اُن میں رچ بس جائیں اور وہ سب بیسن کی نرم و ملائم اور ریشمی شال اوڑھ کر فرحت جزبات سے…
شادی کے بعد پہلی عید تھی۔ اُن کی بیٹی اپنے میاں کے ساتھ اپنے گھر سے چلی اور اپنے ماں باپ سے ملنے کے لیے اُن کے گھر آئی۔ پونے گھنٹے کا رستہ تھا جب وہ ڈیڑھ تک نہ پہنچے تو اُنہیں فون کیا تو کہنے لگے کہ پندرہ منٹ میں آ رہے ہیں۔ وہ آئے تو اُن کے ہاتھ میں ایک شان دار کیک تھا۔ جب اُن سے پوچھا کہ رستے میں اتنی دیر کہاں رہ گئے تو کہنے لگے کہ آپ لوگوں کے لیے کیک لینے چلے گئے تھے۔ کیک تو کہیں سے بھی لیا جا سکتا تھا۔…
کسی اپنے کے بیٹے کی پیدائش کے لڈو ملنے پر اگر آپ نے لڈووں کے ڈبے پر لیبل نہ لگایا ہوتا تب بھی صاف صاف پتا چل جاتا کہ یہ بیٹے کی پیدائش کے لڈو ہیں۔ وہ تو ڈبے میں ہی ایک دوسرے کو چھیڑ رہے تھے کبھی چھُپن چھپائی کھیلتے، کبھی درمیان کی لائن توڑ کر دوسرے سے جا ملتے۔ دوسرے ہی منٹ بھاگ کر واپس اپنی جگہ پر آ جاتے۔ اگررنگ ڈھنگ دیکھیں تو جیسے شہزادے ہوں۔ کہنے کو تو اُن پر بادام لگے ہوئے تھے مگر یوں لگتا تھا جیسے اُن کی آنکھیں ہوں۔ گھما گھما کر…
کِسی اپنے کی بیٹی کی پیدائش کی مٹھائی مِلنے پر جو مٹھائی آپ نے بھیجی ہے بہت کمال کی ہے۔ مٹھائی تو میٹھی ہی ہوتی ہے مگر، اگر بیٹی کی پیدائش کی ہو تو میٹھی سے ایک درجہ بڑھ کر شیریں بھی ہو جاتی ہے اور معصوم بھی ۔اِس سے پہلے معصوم مٹھائی صِرف میرے خیالوں میں ہی تھی، آج حقیقت میں دیکھ لی۔ کئی قسم کے ذائقے اور کئی قسم کے رنگ۔ کچھ شوخ کچھ چنچل, کچھ ہلکے ،کچھ بھلے سے. کئی ڈلیاں روئی کے گالوں کی طرح نرم اور کئی مکھن اور ملائی جیسی ملائم۔ کچھ ڈلیوں میں…
A request for rhymes is conveyed today Bring forth my collection without delay Yet if the listeners try to slip away Lock the door, make sure they stay Block every way, set watchmen near Make them know—all to listen here Two days long, they’ll stay as guests Lentils and bread will serve them best Go quickly, tell their family dear No need to worry; nothing to fear فرمائش شعر کی آئی ہے فرمائش شعر کی آئی ہے دیوان میرا پکڑا دو تُم بھاگ نہ جائیں سُننے والے کُنڈی بھی لگا دو تُم رستے سارے بند کرو ، پہرہ سخت بٹھا…
The dreaming heart, so warm and true Once held some souls it loved and knew It always felt their love, pure and deep Would light the path it wished to keep It knew they all had work and ways Yet still it waits through nights and days Through sunrise bright and sunset deep It dreams of them in love’s true keep Yet sometimes, it softly sighs in vain With every heartbeat, it calls their name Among them, you—so quick to go You spark a flame, then dim its glow You lift the latch, a glance so brief Then leave me…
On the trail of life, above and below, Humble your heart, let pride not grow Be truly humble, yet do not shout aloud Search your heart, what makes you proud Your actions decide what you’ll attain No need for words, no need to explain Plant flowers, and gardens you’ll gain If you sow thorns, you’ll face the pain On the straight path, O humble soul you go Strive with pure heart, let blessings flow His mercy flows like the morning light Absorb its glow, let your soul ignite اوہ دے پینڈے پَے جا بندیا ویلا پل ویچ اُتے تھلے نہ…