Author: W Iqbal Majid

عقل سیانے لوکیں آکھن مال متاع لٹا بیٹھی اے ہو گئی اے ایہہ انھی کملی حال فقیری پا بیٹھی اے عقل سمجھ نوں خبر نہ کائی سُتے رہندے ہوش نہ آئی عشق جو جاگے ساری راتیں اکھیاں وچوں نیند اڑائی عشق دا چانن چار چفیرے ہو گئے سارے دور ہنیرے سیانے جاون حج مکے نوں مکہ گھومے عشق دے پھیرے پھر پھر ایویں جنگل بیلے عمر میں ایہہ گنوائی کدی لبھاں میں چُپ دے روزے کدی میں حال دھائی اوہ سوہنا میرے من دے اندر جے عشق دی تاری ماراں سولی چڑھاواں میں میں اپنی تن من اپنا ہاراں میل…

Read More

ایک دفعہ میرےایک  بہت قریبی دوست  اور اُن کی اہلیہ نے ہمیں  اپنے گھر  کھانے پر بلایا۔ کھانا پُر تکلف تھا  پُوری میز طرح طرح کے کھانوں سے بھری ہوئی تھی۔ جب ہم کھانا کھا چکے اور میز پر سے کھاناسمیٹا  جاچُکا تو  میز کو دوبارہ مختلف اقسام کی سویٹ ڈش  سے بھر دیا گیا۔ یہ سب دیکھ کر میں نے اُن سے کہا یہ کیا کیا آپ نے؟ تو کہنے لگیں کیوں نہ کرتے اپنے بھائی  کو کھانے پر بلایا ہوا ہے  تو میں نے کہا کہ نہیں نہیں ،میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں وہ تو آپ نے…

Read More

میرے ایک دوست میری شاعری کے بہت مداح تھے ۔ ایک دِن کہنے لگے کہ آپ  کی شاعری میں بہت جان ہے آپ مشاعروں میں   کیوں نہیں جاتے آپ تو  بڑے مشہور ہو سکتے ہیں  تو میں نے کہا کہ مجھے تو اپنے کاروبار  سے ہی  فُرصت نہیں  مشاعروں میں کیسے جاؤں ویسے بھی یہ تو جوڑ سے ہیں جو میں نے جوڑے ہوتے ہیں اور جو لوگ شاعری کرتے ہیں وہ تو کمال کرتے ہیں کہنے لگے نہیں نہیں آپ کسرِ نفسی سے کام لے رہے ہیں  ۔  اُن کی باتیں سُن کر اُوپر سے میں نہ نہ کر…

Read More

فرسٹ ائیرمیں داخلہ، کالج کی فضا، کھِلا کھِلا ماحول، بھینی بھینی سی خوشبُو، پھیلی پھیلی سی روشنی، اُڑتے پھِرتے پنچھی، نئی نئی سی دوستی۔ ایک ہی بنچ ایک ساتھ بیٹھنے سے بات چیت شروع ہو گئی ،ٹھاٹھ باٹھ والا لڑکا تھا، امیروں کی سی چال ڈھال، نئے فیشن کے کپڑے، نئے ماڈل  کی موٹر سائیکل، نِت نئے انداز دوستی اور زیادہ ہوئی تو بات گفتگُو سے آگے بڑھی۔ ہفتے بھر کے بعد ایک پیریڈ خالی نکلا تو بولا چل یار تجھے چائے پلا کر لاتا ہوں۔ اپنی موٹر سائیکل نکالی ، سیٹ صاف کی مجھے پیچھے بٹھایا اور فیروزپور روڈ پر…

Read More

الفاظ میں بہت طاقت ہے۔ اتنی کہ یہ کچھ بھی کر دیں۔ مگر اِن سےکہیں زیادہ طاقت جزبات میں ہے جو دل میں ہوتے ہیں۔ اور ایسے الفاظ تو ہیں ہی نہیں جو جزبات کی ترجمانی کر سکیں۔ جزبات ایک طوفان کا نام ہے جو دل کے اندر برپا ہے۔ اگر اندر کے اِس طوفان کو الفاظ مِل جائیں تو یہی طوفان باہر بھی برپا ہو جائے

Read More

شعر تو وہ ہے جس کے الفاظ ایسے ہوں کہ جیسے پھول چُنے ہوئے، موتی سمیٹے ہوئے ، ہیرے تراشے ہوئے اور ترتیب ایسی کہ لڑی میں پروئے ہوئے مالا میں سموئے ہوئے یا سونے میں جڑے ہوئے۔ خوبی ایسی کہ خوشبو بکھیرتے لہلہاتے ہوئے ، روشنی پھیلاتے ہوئے ، جگمگاتے ہوئے لفظ کے ساتھ لفظ اس طرح ہم آہنگ ہو کہ ایک بھی لفظ نہ سنانے والے کی زبان میں اٹکے اور نہ سننے والے کے کان کو کھٹکے۔ سیدھا دل میں اتر جائے اُس کی گود میں جا بیٹھے جس کو کسی نے اپنے دل میں بٹھایا ہوا…

Read More

جب بھى مجھے کوئى وٹس اىپ پر اىک دھڑکتا ہوا دل بھىجتا تھا تو مىں اُسے دو دل بھىج دىتا تھا مگر وہ دھڑکتے نہىں تھے مىں سوچتا تھا ىا الہى مىرے دل دھڑکتے کىوں نہىں ہىں پھر مجھے کسى نے بتاىا کہ دل الگ الگ ہوں تو ہى دھڑکتے ہىں     پھر اس بات  سےمجھے پىار اور شادى کا فرق بھى سمجھ آ گىا اس لىے اب مىں سب کو دو دل الگ الگ ہى بھىجتا ہوں۔ اور لوگوں کو بھى بتا رہا ہوں کى اگر دل دھڑکنا بند کرنا ہے تو ہى شادى کرنا پر مىرى مانتا کوئى…

Read More

ہم لطیفہ ہمیشہ اُن لوگوں کے متعلق بناتے ہیں جن کو ہم کم زور سمجھتے ہیں مثلا” بیوی یا جو کسی کے زیر دام آ جاتے ہیں جیسے کہ خاوند، یا جو سادہ لَو ہوتے ہیں جیسے کہ پٹھان ، یا جو بے ضرر ہوتے ہیں جیسے کہ سکھ یا جو اپنے کام سے کام رکھتے ہیں جیسے شیخ یا جو ہوتے تو بہت طاقت ور ہیں مگر بہت بڑے دل کے مالک ہوتے ہیں جیسے کہ فوجی  ، بس سُن کر مسکرا دیتے ہیں، ہنستے نہیں ہیں۔ ہم ظالم کے متعلق کبھی لطیفہ نہیں بناتے اور نہ ہی سناتے…

Read More

لڑکوں اور لڑکیوں کا ایک دوسرے کے ساتھ مسکرا مسکرا کر بات کرنا بعض لوگوں کی برداشت سے باہر ہو سکتا ہے  لڑکے غصے اور شوخی کی حالت میں آپس میں بات کرتے وقت ماں اور بہن کو گفتگو سے باہر رکھیں موٹر سائیکل کی چین عورتوں کے دوپٹے کی عاشق ہوتی ہے عورتیں اپنے دوپٹے اپنے بُرقے یا قمیص میں چھپا کر موٹر سائیکل پر بیٹھیں اور اُن کی جھلک چین کو مت لگنے دیں عقل داڑھ نکلنے سے پہلے پہلے شادی ہو جائے تو صحیح ہے ورنہ بعد میں اس کے چانسز کم ہو جاتے ہیں   اگر…

Read More

مىں نے اپنے اىک بے تکلف دوست کو بہت دنوں کے بعد فون کىا تو فون سنتے ہى وہ گِلہ کرنا شروع ہو گئے کہ تم نے مجھے اتنے دنوں کے بعد فون کىا ہے۔ دنىا جہان کے شکوے شکائتىں سارے ہى مىرے اوپر ڈال دىے۔ سَو باتىں مجھے سنائىں جىسے ىہ صرف مىرى ہى ذمہ دارى تھى۔ مىں نے کہا کہ تم خود مجھے فون کر لىتے تو اوپر سے کہنے لگے کہ مىں تو تمہىں روز ىاد کرتا ہوں۔ مىں تو جل بھن کر کباب ہو گىا پھر اىک دم سے مىں نے کہا اچھا! لو بھئ! مسئلہ…

Read More