Author: W Iqbal Majid

ایک واجبی شکل و صورت اور متوسط گھرانے کے تجربہ کار اور کہنہ مشق ڈرائیور کو اعلیٰ ظرف اور بڑے دل والے امیر و کبیر  مالکان کی ضرورت ہے جو انٹرویو دینے کے لیے آتے وقت خود سے ہی اپنے ہاتھ پر دو ماہ کی ایڈوانس تنخواہ رکھے گلی محلے سے ڈرائیور کا گھر پوچھتے پھریں۔ ایسے مالکان جو گاڑی کے نقصان کی صورت میں ڈرائیور کو قصور وار ٹھرانے کے بجائے قسمت کا لکھا ہونے پر زیادہ یقین رکھتے ہوں. جو یہ بھی سمجھتے ہوں کہ ڈرائیور کا کام گاڑی ڈرئیو کرنا ہے اُسے دھونے کا کام دھوبیوں کا…

Read More

میرے ایک دوست کے دل کا اپریشن ہوا تو مجھے بہت تشویش ہوئی۔ جب وہ صحت یاب ہو کر آپنے گھر آ گئے تو میں نے اُن کے دل کے مرض کی وجوحات جاننے کے لیے اُن سے چند ایک سوالات کیے جن کا جواب اُن کی مسکراہٹ نے دیا۔ وہ سوالات مندرجہ ذیل ہیں۔ ۔۱ – آپ کو دل کا مرض کس عمر میں لاحق ہوا تھا ۔۲ – دل کا معاملہ کتنی دیر تک چلتا رہا ۔۳ – اگر دل کا معاملہ تھا تو آپ دوستوں سے چھپاتے کیوں رہے؟ ۔۴ – اب جو دل میں درد ہوا…

Read More

عجیب سی رسم ہے , یوں سمجھیں کہ منظوری ہو جاتی ہے کنکشن نہیں ملتا۔ رجسٹری ہو جاتی ہے قبضہ نہیں ملتا ،  فائدہ کی نہ ویایاں وچ نہ کنواریاں وچ بندہ نہ موئیاں وچ نہ جیوندیاں وچ، نہ عاشقاں وچ نہ شوہراں وچ، نہ وسدیاں چ نہ اُجڑیاں چ، اک جھونکا خوشی دا تے اک تھپیڑا غم دا، نہ ملدیاں وچ نہ وچھڑیاں وچ، دل کیتے تےدلدار کیتے۔ تے خجل ہندا  پیار کتے

Read More

یہ کِسی شاعر کی ایک نظم کی ایسی کہانی ہے جو بہت دل گیر بھی ہے اور بھی ناقابلِ یقین بھی۔ مگر کیا کہیں۔ اُن کے ساتھ جو کچھ بھی ہُوا اُس کی ذمہ دار تو اُن کی اپنی شاعری ہی ہے یا پھِر وہ جِس کے لیے شاعری کی۔ آپ خود ہی ملاحظہ فرما لیجیے اور فیصلہ بھی کر لیجیے ہوا یوں کہ ایک رات اُنہوں نے ایک نظم لکھی ، سخت سردی کا موسم تھا۔ صبح نُور کے تڑکے مکمل ہوئی۔ اب ساڑھے تین بجے الصبح ، کئی لوگ تو رات ہی سمجھتے ہیں، انسان کس کو سنائے…

Read More

میری بیٹی کی شادی تھی۔ شادی کے دو تین روز بعد میری امی نے مجھے اپنی ٹریجڈی کا قصہ سنایا۔ کہنے لگیں جب میں شادی میں شرکت کے لیے گئی اور میری گاڑی ہال کے پاس رکی۔ بارات ابھی ابھی آئی تھی اور دولہا اور باقی لوگ ہال کےباہر کھڑے تھے۔ ڈھول بج رہا تھا۔ میں گاڑی سے باہر نکلی اور جب بارات کی طرف دیکھا تو میں نے اپنا سَر پکڑ لیا اور اپنے دل میں کہا یا الہی ایسے لوگ تو نہ میں نے گاؤں میں دیکھے اور نہ کسی شہر میں۔ یہ کس قسم کے لوگ ہیں…

Read More

شادی بیاہ کا وقت بہت نازک ہوتا ہے۔ قدم قدم پر دعاؤں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اپنی زندگی کے سب بہترین دوست بلائے ہوئے ہوتے ہیں رشتے دار موجود ہوتے ہیں نئے رشتے بن رہے ہوتے ہیں یوں سمجھیں کہ آپ اپنی ساری دنیا کے بیچ کھڑے ہوتے ہیں۔ اللہ نہ کرے ذرا سی بھی اونچ نیچ یا چُوک ہو جائے تو ساری عزت داؤ پر لگ جاتی ہے۔ میں بھی ایسے ہی ایک موقعہ پر بال بال بچ گیا۔ ہوا یوں کہ میری بیٹی کی شادی تھی سارا ہال مہمانوں سے بھرا ہوا تھا ہر طرف گہما گہمی تھی۔…

Read More

پچھلے سال مئی کے آخری دنوں کی بات ہے سخت گرمی تھی، ہمارے گھر کی گھنٹی بجی تو میں باہر دیکھنے کے لیے گیا گیٹ پر پچاس کے قریب کی ایک بہت معزز خاتون اور بیس کے قریب کا ایک لڑکا جس کے ہاتھ میں ایک ٹِفن سا تھا، کھڑے تھے۔ میں نے کہا جی فرمائیے کہنے لگیں ہم لوگ حکومت کی طرف سے انسدادِ پولیو کے لیے کام کر رہے ہیں آپ کا کوئی چھوٹا بچہ؟ میں نے کہا نہیں تو بولیں کسی مہمان کا؟ میں نے کہا نہیں، کسی آئے گئے کا؟ میں نے کہا نہیں کسی نوکر…

Read More

میں فرسٹ ائیر میں پڑھتا تھا۔ اُس وقت مجھے موٹر سائیکل کا بہت شوق تھا۔ ہمارے ہمسائے میں ایک لڑکے کے پاس ایک نئی موٹر سائیکل تھی۔ وہ رات کے وقت اُس کی ہیڈ لائیٹ بند کر دیتا اور اُس کے چاروں اشارے جلا دیتا ، رات کے اندھیرے میں جلتی بُجھتی لائیٹوں کے ساتھ آتی ہوئی موٹر سائیکل مجھے بہت مسحور کرتی تھی اور میں اُس کے سحر میں کھو جاتا تھا۔ اُس کی وجہ سے میرا موٹر سائیکل چلانے کا شوق اور بھی بڑھ گیا جب مجھے موٹر سائیکل ملی تو میں نے سب سے پہلے اُس کا…

Read More

ہمارے ہمسائے میں بہت نیک اور شریف لوگ رہتے تھے اُن کے دو بچے تھے۔ ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔ اُن کی بیٹی ہماری بیٹی کی کلاس فیلو تھی اِن دونوں کی آپس میں بہت گہری دوستی تھی۔ یہ دونوں ہر وقت اکٹھے ہنستی کھیلتی تھیں اور خوش رہتی تھیں۔ اِن کی وجہ سے ہمارے گھروں میں بہت رونق تھی اور ہمیں لگتا تھا کہ ہماری ایک نہیں بلکہ دو بیٹیاں ہیں۔ وقت گزرتا گیا دونوں بڑی ہو گئیں شادی کے بعد اپنے اپنے گھروں میں جا بسیں۔ ایک دن میں اپنے گھر سے باہر نکلا تو دوسری طرف سے…

Read More

لاک ڈاؤن کےدوران کوئی کام وام تو تھا نہیں۔ زندگی کا سارا نظام ہی درہم برہم ہوا پڑا تھا۔ شروع شروع میں تو سوئے ہی رہتے تھے ، بس کھانا کھانے کے لیے اُٹھتے تھے۔ کچھ دن کے بعد زیادہ سونے کی وجہ سے آنکھیں سُوجنا شروع ہو گئیں۔ بیزاری حد سے بڑھ گئی تو سوچا یا الہی کیا کام کریں کوئی کام تھا ہی نہیں۔ اچانک خیال آیا کہ دوستوں کو فون کرتے ہیں۔ اُن کی خیریت معلوم کرنے کے بہانے۔ اس طرح دوستوں کو بھی باور کرا سکیں گے کہ ہمیں اُن کا بہت خیال ہے اور اپنی…

Read More