Author: W Iqbal Majid

میری بیٹی کی شادی تھی۔ شادی کے دو تین روز بعد میری امی نے مجھے اپنی ٹریجڈی کا قصہ سنایا۔ کہنے لگیں جب میں شادی میں شرکت کے لیے گئی اور میری گاڑی ہال کے پاس رکی۔ بارات ابھی ابھی آئی تھی اور دولہا اور باقی لوگ ہال کےباہر کھڑے تھے۔ ڈھول بج رہا تھا۔ میں گاڑی سے باہر نکلی اور جب بارات کی طرف دیکھا تو میں نے اپنا سَر پکڑ لیا اور اپنے دل میں کہا یا الہی ایسے لوگ تو نہ میں نے گاؤں میں دیکھے اور نہ کسی شہر میں۔ یہ کس قسم کے لوگ ہیں…

Read More

شادی بیاہ کا وقت بہت نازک ہوتا ہے۔ قدم قدم پر دعاؤں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اپنی زندگی کے سب بہترین دوست بلائے ہوئے ہوتے ہیں رشتے دار موجود ہوتے ہیں نئے رشتے بن رہے ہوتے ہیں یوں سمجھیں کہ آپ اپنی ساری دنیا کے بیچ کھڑے ہوتے ہیں۔ اللہ نہ کرے ذرا سی بھی اونچ نیچ یا چُوک ہو جائے تو ساری عزت داؤ پر لگ جاتی ہے۔ میں بھی ایسے ہی ایک موقعہ پر بال بال بچ گیا۔ ہوا یوں کہ میری بیٹی کی شادی تھی سارا ہال مہمانوں سے بھرا ہوا تھا ہر طرف گہما گہمی تھی۔…

Read More

پچھلے سال مئی کے آخری دنوں کی بات ہے سخت گرمی تھی، ہمارے گھر کی گھنٹی بجی تو میں باہر دیکھنے کے لیے گیا گیٹ پر پچاس کے قریب کی ایک بہت معزز خاتون اور بیس کے قریب کا ایک لڑکا جس کے ہاتھ میں ایک ٹِفن سا تھا، کھڑے تھے۔ میں نے کہا جی فرمائیے کہنے لگیں ہم لوگ حکومت کی طرف سے انسدادِ پولیو کے لیے کام کر رہے ہیں آپ کا کوئی چھوٹا بچہ؟ میں نے کہا نہیں تو بولیں کسی مہمان کا؟ میں نے کہا نہیں، کسی آئے گئے کا؟ میں نے کہا نہیں کسی نوکر…

Read More

میں فرسٹ ائیر میں پڑھتا تھا۔ اُس وقت مجھے موٹر سائیکل کا بہت شوق تھا۔ ہمارے ہمسائے میں ایک لڑکے کے پاس ایک نئی موٹر سائیکل تھی۔ وہ رات کے وقت اُس کی ہیڈ لائیٹ بند کر دیتا اور اُس کے چاروں اشارے جلا دیتا ، رات کے اندھیرے میں جلتی بُجھتی لائیٹوں کے ساتھ آتی ہوئی موٹر سائیکل مجھے بہت مسحور کرتی تھی اور میں اُس کے سحر میں کھو جاتا تھا۔ اُس کی وجہ سے میرا موٹر سائیکل چلانے کا شوق اور بھی بڑھ گیا جب مجھے موٹر سائیکل ملی تو میں نے سب سے پہلے اُس کا…

Read More

ہمارے ہمسائے میں بہت نیک اور شریف لوگ رہتے تھے اُن کے دو بچے تھے۔ ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔ اُن کی بیٹی ہماری بیٹی کی کلاس فیلو تھی اِن دونوں کی آپس میں بہت گہری دوستی تھی۔ یہ دونوں ہر وقت اکٹھے ہنستی کھیلتی تھیں اور خوش رہتی تھیں۔ اِن کی وجہ سے ہمارے گھروں میں بہت رونق تھی اور ہمیں لگتا تھا کہ ہماری ایک نہیں بلکہ دو بیٹیاں ہیں۔ وقت گزرتا گیا دونوں بڑی ہو گئیں شادی کے بعد اپنے اپنے گھروں میں جا بسیں۔ ایک دن میں اپنے گھر سے باہر نکلا تو دوسری طرف سے…

Read More

لاک ڈاؤن کےدوران کوئی کام وام تو تھا نہیں۔ زندگی کا سارا نظام ہی درہم برہم ہوا پڑا تھا۔ شروع شروع میں تو سوئے ہی رہتے تھے ، بس کھانا کھانے کے لیے اُٹھتے تھے۔ کچھ دن کے بعد زیادہ سونے کی وجہ سے آنکھیں سُوجنا شروع ہو گئیں۔ بیزاری حد سے بڑھ گئی تو سوچا یا الہی کیا کام کریں کوئی کام تھا ہی نہیں۔ اچانک خیال آیا کہ دوستوں کو فون کرتے ہیں۔ اُن کی خیریت معلوم کرنے کے بہانے۔ اس طرح دوستوں کو بھی باور کرا سکیں گے کہ ہمیں اُن کا بہت خیال ہے اور اپنی…

Read More

دروازے کی گھنٹی بجی۔ ابھی ہم سوچ ہی رہے تھے کہ کون ہو گا کہ کھانوں کی خوشبو اندر آگئی اور سارے گھر میں چھا گئی۔ اُس نے تو دھوم مچادی تھی کہ میں کسی اپنے کی طرف سے آئی ہوں۔ یوں لگتا تھا کہ یہ گھنٹی کھانے نے ہی بجائی تھی۔ وہ اندر آنے کے لیے اتنا بے تاب تھا کہ اُس نے بغیر انتظار کیے خوشبو کو اندر بھیج دیا۔ خوشبو کا جادو تھا یا جادو کی خوشبو ، کچھ کہہ نہیں سکتے مگر اُس نے سب پر اپنا سحر طاری کر دیا۔ اِس سے پہلے کہ کوئی…

Read More

ایک دوست کی طرف سے آموں کا تحفہ بھیجنے پر آپ کے بھیجے ہوۓ آموں کا تحفہ ملا- پیٹی کے اوپر تاریخ ڈھونڈنے کی کوشش کی شاید کورئیر کے ہاتھوں مٹ سی گئی تھی۔ جب نہ ملی تو پیٹی کو ایک طرف سے تھوڑا سا کھول کر اُس کے اندر جھانکا۔ اِس قدر خوبصورت آم ، گہرے سبز رنگ کے اور خوب پلے ہوۓ جیسے سب درختوں نے اپنا اپنا دل نکال کر اُن میں ڈال دیا ہو اور چُننے والے نے ساری محبت! جی چاہا کہ انہیں ایسے ہی کھا لیا جائے مگر اُنہیں ہوا لگ جانے کے ڈر…

Read More

مچھلی تو زندگی میں کئی دفعہ کھائی مگر آپ کی بھیجی ہوئی مچھلی تو بہت ہی کمال کی تھی۔ نہ ایسی مچھلی کبھی دیکھی نہ کبھی کھائی۔ مجھے یہ بتانے کے لیے کہ مچھلی آ گئی ہے، سب سے پہلے تو خوش بُو آئی وہ خود ہی اتنی پیاری تھی کہ دل و دماغ پر چھا گئی۔ میں نے سوچا کہ جو خوش بُو اتنی پیاری ہے تو مچھلی کیسی ہو گی یا الہی یہ کیا!  خوش بُو کے پیچھے پیچھے آپ کے ڈرائیور صاحب ایک بڑا سا دیگچا اٹھائے ہوئے اندر آ گئے۔ دیگچے کو دیکھ کر سب سے…

Read More

جب ساون کی مخمور گھٹائیں چھا جائیں۔ بادل رم جھم رم جھم برسنے کو تیار یوں۔ شرارتی بوندیں موسم کی دیوانگی کے ساتھ اٹھکیلیاں کرنے لگیں ، ٹھنڈی ہوائیں کچن میں پڑے آلو اور پیاز کو جوش دلا دیں۔اور وہ ان شوخ ہواؤں کی دلکش اداؤں کی چھیڑ چھاڑ سے موسم کی رعنائیوں پر کٹ مرنے کے لیے تیار ہوں تو اُن کا ساتھ دینے کے لیے پاس پڑے گرم مصالحے اِس ٹھنڈے موسم کے جزبات میں بہہ کر اُن میں رچ بس جائیں اور وہ سب بیسن کی نرم و ملائم اور ریشمی شال اوڑھ کر فرحت جزبات سے…

Read More