Author: W Iqbal Majid

ایک دوست کے فیس بک پر کسی نا معلوم شاعر کا یہ شعر لکھنے پر اب تو خود اپنی ضرورت بھی نہیں ہے ہم کو وہ بھی دن تھے کہ کبھی تیری ضرورت ہم تھے نا معلوم بھول گئے ہم خود کو ہی تیرے پیار کے پیار میں وہ بھی دِن تھے کہ تیرے پیار کی صورت ہم تھے ماجد

Read More

ایک دوست کے فیس بک پیج پر محسن گیلانی کا یہ شعر لکھنے پر چلوں کیسے میری سانسوں میں قضا ٹھری ہے وہ جو معصوم سی آنکھوں میں جفا ٹھری ہے محسن گیلانی قضا بھی وہی ہے، جفا بھی وہی ہے، دوا بھی وہی ہے جو بھی اُس کی ادا ٹھری ہے وہی تیری دوا ٹھری ہے وحید اقبال ماجد

Read More

فیس بُک پر ایک دوست کے کسی نامعلوم شاعر کا یہ اچھا تو پھر بتا ئیے کیسا رہا سفر ؟  ٹوٹی کہاں پہ جوتیاں چھالے کہاں پڑے ؟ کس موڑ پہ جناب کی ہمت نے دم دیا ؟ صاحب کو اپنی جان کے لالے کہاں پڑے ؟ نا معلوم آپ نے یاد دلائے چھالے اور یہ ٹوٹی جوتیاں تو ہم نے بھی چونک کر اِدھر خیال کیا احساس ہی نہ ہوا سارے رستے ٹپکتے لہو کا یاد ہی نہ رہی اپنی ہستی ، عشق نے ایسا کمال کیا ماجد

Read More

ایک دوست کے فیس بک پیج پر پروین شاکر کا یہ شعر لکھنے پر تم نے کہا تھا ہر شام تیرا حال پوچھیں گے  تم بدل گے ہو یا تمہارے شہر میں شام نہیں ہوتی پروین شاکر وہ بدل جاتا تو یہ آنکھ ہر وقت آنسوؤں سے روتی ہمیں یقیں ہے کہ اُس کے شہر میں شام نہیں ہوتی ماجد

Read More

بیت بازی کے لیے جوابی شعر نہیں ہے نشیمن تیرا قصرِ سلطانی کے گنبد پر تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں اقبال نکل دنیا کی حدوں سے ڈھونڈھ منزل تُو آسمانوں میں عشق و جنوں سے پیدا کر نام اپنا تُو سب جہانوں میں وحید اقبال ماجد

Read More

بیت بازی کے لیے جوابی شعر محبت برستی ہے جو دھیرے دھیرے تمہیں یاد ہے یا ہمیں یاد ہے امجد اسلام امجد یہی محبت تو ہے حاصل زندگی کا باقی تو ساری زندگی برباد ہے وحید اقبال ماجد

Read More

ایک دوست کے فیس بک پیج پر پروین شاکر کا یہ شعر لکھنے پر “اس کی مٹھی میں بہت روز رہا میرا وجود میرے ساحر سے کہو اب مجھے آزاد کرے” کمنٹ سُرخُرو ہونے کی تمنا کے رُوبرُو اِک شعرِ آرزُو اپنی مُٹھی میں رکھے میرا وجود لاڈ و پیار سے اے دل ، میرے دلبر سے کہو ، مجھے آباد کرے

Read More

ایک دوست کے فیس بُک پر پروین شاکر کا یہ شعر لکھنے پر “عشق نے سیکھ ہی لی وقت کی تقسیم کہ اب وہ مجھے یاد تو آتا ہے مگر کام کے بعد” بے لاگ تبصرہ چشمِ پُر نم کے ساتھ پروین شاکر کے اِس شعر کے اندر ایک کرب ہے۔ اُس کی کیفیت سمجھنے کے لیے شعر ملاحظہ فرمائیے وہ یاد آتا ہے تو روتا ہے دل ، بھیگ جاتی ہیں پلکیں تھک کے کام سے جب سوچتی ہوں شام کے بعد

Read More