Author: W Iqbal Majid

الفاظ میں بہت طاقت ہے۔ اتنی کہ یہ کچھ بھی کر دیں۔ مگر اِن سےکہیں زیادہ طاقت جزبات میں ہے جو دل میں ہوتے ہیں۔ اور ایسے الفاظ تو ہیں ہی نہیں جو جزبات کی ترجمانی کر سکیں۔ جزبات ایک طوفان کا نام ہے جو دل کے اندر برپا ہے۔ اگر اندر کے اِس طوفان کو الفاظ مِل جائیں تو یہی طوفان باہر بھی برپا ہو جائے

Read More

شعر تو وہ ہے جس کے الفاظ ایسے ہوں کہ جیسے پھول چُنے ہوئے، موتی سمیٹے ہوئے ، ہیرے تراشے ہوئے اور ترتیب ایسی کہ لڑی میں پروئے ہوئے مالا میں سموئے ہوئے یا سونے میں جڑے ہوئے۔ خوبی ایسی کہ خوشبو بکھیرتے لہلہاتے ہوئے ، روشنی پھیلاتے ہوئے ، جگمگاتے ہوئے لفظ کے ساتھ لفظ اس طرح ہم آہنگ ہو کہ ایک بھی لفظ نہ سنانے والے کی زبان میں اٹکے اور نہ سننے والے کے کان کو کھٹکے۔ سیدھا دل میں اتر جائے اُس کی گود میں جا بیٹھے جس کو کسی نے اپنے دل میں بٹھایا ہوا…

Read More

جب بھى مجھے کوئى وٹس اىپ پر اىک دھڑکتا ہوا دل بھىجتا تھا تو مىں اُسے دو دل بھىج دىتا تھا مگر وہ دھڑکتے نہىں تھے مىں سوچتا تھا ىا الہى مىرے دل دھڑکتے کىوں نہىں ہىں پھر مجھے کسى نے بتاىا کہ دل الگ الگ ہوں تو ہى دھڑکتے ہىں     پھر اس بات  سےمجھے پىار اور شادى کا فرق بھى سمجھ آ گىا اس لىے اب مىں سب کو دو دل الگ الگ ہى بھىجتا ہوں۔ اور لوگوں کو بھى بتا رہا ہوں کى اگر دل دھڑکنا بند کرنا ہے تو ہى شادى کرنا پر مىرى مانتا کوئى…

Read More

ہم لطیفہ ہمیشہ اُن لوگوں کے متعلق بناتے ہیں جن کو ہم کم زور سمجھتے ہیں مثلا” بیوی یا جو کسی کے زیر دام آ جاتے ہیں جیسے کہ خاوند، یا جو سادہ لَو ہوتے ہیں جیسے کہ پٹھان ، یا جو بے ضرر ہوتے ہیں جیسے کہ سکھ یا جو اپنے کام سے کام رکھتے ہیں جیسے شیخ یا جو ہوتے تو بہت طاقت ور ہیں مگر بہت بڑے دل کے مالک ہوتے ہیں جیسے کہ فوجی  ، بس سُن کر مسکرا دیتے ہیں، ہنستے نہیں ہیں۔ ہم ظالم کے متعلق کبھی لطیفہ نہیں بناتے اور نہ ہی سناتے…

Read More

لڑکوں اور لڑکیوں کا ایک دوسرے کے ساتھ مسکرا مسکرا کر بات کرنا بعض لوگوں کی برداشت سے باہر ہو سکتا ہے  لڑکے غصے اور شوخی کی حالت میں آپس میں بات کرتے وقت ماں اور بہن کو گفتگو سے باہر رکھیں موٹر سائیکل کی چین عورتوں کے دوپٹے کی عاشق ہوتی ہے عورتیں اپنے دوپٹے اپنے بُرقے یا قمیص میں چھپا کر موٹر سائیکل پر بیٹھیں اور اُن کی جھلک چین کو مت لگنے دیں عقل داڑھ نکلنے سے پہلے پہلے شادی ہو جائے تو صحیح ہے ورنہ بعد میں اس کے چانسز کم ہو جاتے ہیں   اگر…

Read More

مىں نے اپنے اىک بے تکلف دوست کو بہت دنوں کے بعد فون کىا تو فون سنتے ہى وہ گِلہ کرنا شروع ہو گئے کہ تم نے مجھے اتنے دنوں کے بعد فون کىا ہے۔ دنىا جہان کے شکوے شکائتىں سارے ہى مىرے اوپر ڈال دىے۔ سَو باتىں مجھے سنائىں جىسے ىہ صرف مىرى ہى ذمہ دارى تھى۔ مىں نے کہا کہ تم خود مجھے فون کر لىتے تو اوپر سے کہنے لگے کہ مىں تو تمہىں روز ىاد کرتا ہوں۔ مىں تو جل بھن کر کباب ہو گىا پھر اىک دم سے مىں نے کہا اچھا! لو بھئ! مسئلہ…

Read More

ایک واجبی شکل و صورت اور متوسط گھرانے کے تجربہ کار اور کہنہ مشق ڈرائیور کو اعلیٰ ظرف اور بڑے دل والے امیر و کبیر  مالکان کی ضرورت ہے جو انٹرویو دینے کے لیے آتے وقت خود سے ہی اپنے ہاتھ پر دو ماہ کی ایڈوانس تنخواہ رکھے گلی محلے سے ڈرائیور کا گھر پوچھتے پھریں۔ ایسے مالکان جو گاڑی کے نقصان کی صورت میں ڈرائیور کو قصور وار ٹھرانے کے بجائے قسمت کا لکھا ہونے پر زیادہ یقین رکھتے ہوں. جو یہ بھی سمجھتے ہوں کہ ڈرائیور کا کام گاڑی ڈرئیو کرنا ہے اُسے دھونے کا کام دھوبیوں کا…

Read More

میرے ایک دوست کے دل کا اپریشن ہوا تو مجھے بہت تشویش ہوئی۔ جب وہ صحت یاب ہو کر آپنے گھر آ گئے تو میں نے اُن کے دل کے مرض کی وجوحات جاننے کے لیے اُن سے چند ایک سوالات کیے جن کا جواب اُن کی مسکراہٹ نے دیا۔ وہ سوالات مندرجہ ذیل ہیں۔ ۔۱ – آپ کو دل کا مرض کس عمر میں لاحق ہوا تھا ۔۲ – دل کا معاملہ کتنی دیر تک چلتا رہا ۔۳ – اگر دل کا معاملہ تھا تو آپ دوستوں سے چھپاتے کیوں رہے؟ ۔۴ – اب جو دل میں درد ہوا…

Read More

عجیب سی رسم ہے , یوں سمجھیں کہ منظوری ہو جاتی ہے کنکشن نہیں ملتا۔ رجسٹری ہو جاتی ہے قبضہ نہیں ملتا ،  فائدہ کی نہ ویایاں وچ نہ کنواریاں وچ بندہ نہ موئیاں وچ نہ جیوندیاں وچ، نہ عاشقاں وچ نہ شوہراں وچ، نہ وسدیاں چ نہ اُجڑیاں چ، اک جھونکا خوشی دا تے اک تھپیڑا غم دا، نہ ملدیاں وچ نہ وچھڑیاں وچ، دل کیتے تےدلدار کیتے۔ تے خجل ہندا  پیار کتے

Read More

یہ کِسی شاعر کی ایک نظم کی ایسی کہانی ہے جو بہت دل گیر بھی ہے اور بھی ناقابلِ یقین بھی۔ مگر کیا کہیں۔ اُن کے ساتھ جو کچھ بھی ہُوا اُس کی ذمہ دار تو اُن کی اپنی شاعری ہی ہے یا پھِر وہ جِس کے لیے شاعری کی۔ آپ خود ہی ملاحظہ فرما لیجیے اور فیصلہ بھی کر لیجیے ہوا یوں کہ ایک رات اُنہوں نے ایک نظم لکھی ، سخت سردی کا موسم تھا۔ صبح نُور کے تڑکے مکمل ہوئی۔ اب ساڑھے تین بجے الصبح ، کئی لوگ تو رات ہی سمجھتے ہیں، انسان کس کو سنائے…

Read More