Author: W Iqbal Majid
مسکراہٹ ہے زندگی ذرا مسکرا دیجئیے غموں کو ہٹائیے خوشی کو جگہ دیجئیے
میں نے جدھر بھی دیکھا ہر طرف تُو ہی رُو برُو تھا میرے آنسو اس لیے موتی بنے تھے کہ اُن میں تُو تھا
زارا خان کی اِس پوسٹ پر تیرے بغیر تو جینے کا حوصلہ بھی نہیں عنایتوں کا وہ پہلے سا سلسلہ بھی نہیں بچھڑ کے کھو گیا جانے کہاں پتہ ہی نہیں بہت تلاش کیا پر مجھے ملا بھی نہیں گزر رہی ہوں کسی خار زار صحرا سے اکیلی ہوں میں مرے ساتھ قافلہ بھی نہیں نہ وہ فرشتہ صفت ہے نہ خوب رو ہے بہت مگر یہ سچ ہے کہ وہ آدمی بُرا بھی نہیں اسے پیار ہے زارا سے مان لوں کیسے نظر اٹھا کے کبھی اس کو دیکھتا بھی نہیں زارا خان کمنٹ تجھے اُس سے کوئی گِلہ…
ایک دوست کے فیس بک پیج پر کسی نا معلوم شاعر کا یہ شعر لکھنے پر ہے شوق اور ضبظِ شوق میں دِن رات کشمکش دِل مُجھ کو، میں ہُوں دِل کو پریشاں کیے ہُوے نا معلوم کمنٹ ہیں شوق اور فروغِ شوق میں دِن رات محبتیں دل مجھ میں، مَیں دل میں جوشِ کارواں لیے ہوئے ماجد
خود داری بازار زمانے کے سِتم سہے ، زندگی نے کئی ڈھنگ بنا لیے کچھ بن نہ پڑا جب ، خود داری کے پکوڑے لگا لیے ملے جو اور اپنے جیسے تو ساتھ وہ بھی ملا لیے مِل کے پھر ہم نے یوں خود داری کے بازار سجا لیے
پھول جیسا ہے وہ یہ خوشبو اُسی کی ہے الفاظ اُسی کے ہیں یہ گفتگو اُسی کی ہے لب و لحجہ اُسی کا ، یہ دل لگی اُسی کی ہے یہ ترنم بھی اُس کا ہے یہ راگنی اُسی کی ہے زبانیں تو اور بھی جانتا ہے دنیا بھر کی وہ زبان کی چاشنی بتاتی ہے یہ اردو اُسی کی ہے ادائیں اُسی کی ہیں، یہ خُو اُسی کی ہے اِس دل کو بھی تو جستجو اُسی کی ہے
ایک دوست کے فیس بک پر کسی نا معلوم شاعر کا یہ شعر لکھنے پر اب تو خود اپنی ضرورت بھی نہیں ہے ہم کو وہ بھی دن تھے کہ کبھی تیری ضرورت ہم تھے نا معلوم بھول گئے ہم خود کو ہی تیرے پیار کے پیار میں وہ بھی دِن تھے کہ تیرے پیار کی صورت ہم تھے ماجد
مُرشد ناصر میر کی پوسٹ پر آپ نے، سیر گاہ سمجھا ہے دشت ہے یہ جناب عالی دشت مرشد ہم دشت کے باسی ہیں ، دشت میں ہے وحشت اپنی خاموش نہیں ہے یہ یونہی ، جانتا ہے سرشست اپنی ماجد
ایک دوست کے فیس بک پیج پر محسن گیلانی کا یہ شعر لکھنے پر چلوں کیسے میری سانسوں میں قضا ٹھری ہے وہ جو معصوم سی آنکھوں میں جفا ٹھری ہے محسن گیلانی قضا بھی وہی ہے، جفا بھی وہی ہے، دوا بھی وہی ہے جو بھی اُس کی ادا ٹھری ہے وہی تیری دوا ٹھری ہے وحید اقبال ماجد
قسمت سے جو ملا ہے خود کو تو اپنے آپ کو پہچان لے شاہکار ہے تُو منفرد اِس جہاں میں ، یہ بات تُو مان لے