Author: W Iqbal Majid
ایک دن صبح جب میں اپنے دفتر گیا تو میرے دفتر کے باہر میری فیکٹری کا ایک ورکر کھڑا تھا جس نے اُس سے پچھلے دن چھٹی کی تھی۔ دعا سلام کے بعد میں نے اُسے پوچھا کہ کل خیریت تھی تم کام پر نہیں آئے تو کہنے لگا سر میں تو آج بھی چھُٹی لینے آیا ہوں میرے ماموں کا بیٹا فوت ہو گیا ہے۔ میں نے فوت ہونے والے کے لیے دعا کی اور پوچھا کیا ہوا اُس کو؟ تو کہنے لگا سَر وہ ریل گاڑی کے نیچے آگیا تھا۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا کیسے! تو…
باغ میں سیر کرتے ہوئے جب اُس سے نظریں چار ہوئیں تو دل دھڑک اُٹھا اور کوئی جادو سا چھانے لگا۔ہر طرف تارے نظر آنے لگے، جھلمل جھلمل سے۔ چاند بڑا سا ہو گیا۔ کائنات کی ہر چیز رقص کرنے لگی۔ سارا باغ بدل گیا۔ درختوں کے پتے ساز بجانے لگے۔ ہوا رگنی گانے لگی۔ ندی گنگنانے لگی۔ کلیاں مسکرانے لگیں. بھنورے موج میں آ گئے۔ پھولوں پر خمار چھا گیا۔ ہر چیز میں مستی، ہر چیز پر سحر طاری۔ ہر کسی کا باطن ظاہر ہونے لگا۔ کسی میں چاندی کی چمک۔ کسی میں سونے سی دمک۔ کسی میں آواز…
ایک دن مَیں ایک ایسے اسکول کی ایک تقریب میں گیا جس کے بچوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے کچھ لوگوں کے دل میں رحم ڈالا ہوا ہے۔ وہ اُن کے لیے ایسا سوچتے ہیں جیسا کوئی اپنے بچوں کے لیے سوچے۔ جب میں وہاں پہنچا تو اُس وقت برقعے میں ایک خاتون تقریر کر رہی تھیں۔ برقعے میں یہ تو پتا نہیں چلتا کہ یہ کون ہیں،مگر اُن کی باتیں ایسی تھیں کہ دل میں اُترتی جاتی تھیں ان کی باتیںکیا تھیں، آمنے سامنے بیٹھے ہوئے کسی اپنے کے ساتھ اُن کی گفتگو تھی۔ جیسے کوئی اپنے بہن بھائی…
اَلسَّلَامُ عَلَيکم آپ دونوں میاں بیوی پر اللہ تعالیٰ کی اس رحمت کو بیان کرنے کے لیے زبان وبیان کے الفاظ ناکافی ہیں اور بات مبارک باد سے کہیں آگے ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ لوگوں کی اور آپ لوگوں سے محبت کرنے والوں کی دعائیں سُن لی ہیں۔اس نے اپنی رحمتوں کے رخ آپ کے گھر کی طرف موڑ دئے ہیں اور آپ کا گھر نور سے بھر دیا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ یونہی آپ لوگوں کی زندگی میں رنگ و نُور بھرتا رہے اور رحمت کے اِس تحفہ نور کو ہمیشہ منور…
معاف کیجئے گا۔ میرا یہ موبائل میرے ہی خلاف ہے۔ جب بھی مجھے کسی اپنے کی یاد آتی ہے تو میں موبائل ہاتھ میں لیے سوچتا ہوں کہ اُنھیں کال کروں یا نہ کروں۔ کیوں کہ وہ خود تو کبھی کال کرتے نہیں۔ وہ کیا کہیں گے کہ میں اتنا بے تاب کیوں ہوں۔ یہی سوچتے ہوئے اگر میرا ہاتھ ذرا سا بھی موبائل کو چھُو جائے تو یہ اُسے کال ملا دیتا ہے اور میرے روکتے روکتے بھاگتا ہے اُن کے کان میں بتانے کے لیے۔ چغل خور کہیں کا۔ میرا بھرم رکھنا تو اِسے آتا ہی نہیں۔ …
آج پھر کھانا اسے پسند نہیں آیا، اسی طرح چیخا،برتن توڑے،کھانا بالکونی سے نیچے پھینکا اور بازار سے کھانا کھانے کے لیے نیچے اُتر ا مگر نیچے جاتے ہی سسکیوں کے ساتھ روتا ہوا واپس آ کر بیڈ پر گر گیا۔ میں نے بالکونی سے نیچے جھانک کر دیکھا تو ایک شخص وہی کھانا زمین سے اٹھا اٹھا کر کھا رہا تھا اور ہر لقمے پر خدا کا شکر ادا کر رہا تھا۔ جب ذرا جی ہلکا ہوا تو میں نے پوچھا ‘کیا ہوا؟’ تو بولا کہ اُس شخص کو زمین سے کھانا اٹھا کر شُکر کے ساتھ کھاتے دیکھا…
کسی کو یہ کہنے کے بجائے کہ “خوش رہو” اُسے اُس کے ساتھ اپنے سلُوک کی وجہ سے خوش رکھنے کی کوشش کریں یا اُس کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالی اُسے ایسی سوچ دے دے جِس کی وجہ سے وہ خوش رہ سکے یا ایسے لوگوں سے ملا دے جو ہر ایک کے لئے رحمت کا باعث ہوتے ہیں اور ہر وقت خوشیاں بکھیرنے ہیں۔
میرے ایک دوست ایاز محمود، بہت اعلیٰ ٹرینر، جنہیں میں کافی عرصے سے جانتا ہوں اور اُن کی قابلیت کا بہت معترف ہوں، ایک دفعہ انہوں نے مجھے ایک بہت بڑے ہال میں ایگزیکٹو کلاس کو ٹریننگ دیتے ہوے کی اپنی تصویریں بھیجیں تو میں نے انہیں فون کیا اور کہا کہ ایاز صاحب آپ کو مبارکباد دینے اور ایک واقعہ سنانے کے لئیے فون کیا ہے. بولے جی ضرور، تو میں نے مبارک باد دینے کے بعد کہا کہ ایک دفعہ میں ایک بہت بڑے اسکُول میں کسی کام سے گیا اور کچھ لوگوں سے ملا اگلے دن پھر…
وہ بہت پریشان تھا۔ پریشانی ایک نہیں تھی بلکہ شاید پریشانیوں کا کوئی ٹولہ مل کر اُس کے گھر آگیا تھا۔ اُس نے ان سے جان چھڑانے کی بہت کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکا۔ ہر وقت پریشان اور بے چین رہنے لگا۔ بہت سوچا، سمجھ نہ آیا۔ دوستوں سے پوچھا کوئی فائدہ نہ ہوا ۔ آخر مارا مارا پھرنے لگا اور جگہ جگہ سے پوچھنے لگا۔ ایک دن اُسے ایک درویش ملا جب اُس سے پوچھا تو اُس نے اُسے کہا “تمہاری زندگی میں ایک انسان ایسا تھا جو تمہارا بہت خیال رکھتا تھا۔ وہ تمہارا سب سے…
آج کا انسان بہت مشکلات میں ہے۔یہ مشکلات اُس کی اپنی پیدا کی ہوئی ہیں۔ یہ مشکلات اور بھی بڑھ جاتی ہیں جب اللہ پر اُس کا یقین اور ایمان کمزور پڑجاتا ہے۔ انسان کی مشکلات چاہے کیسی بھی کیوں نہ ہوں اس کی رحمت اتنی بڑی ہے، اتنی بڑی ہے کہ اُس کے سامنے ان مشکلات کی کوئی وقعت ہے ہی نہیں اور کون جانے کہ اگلا لمحہ کسی کے لئے کیا نعمت اور کیا رحمت لے کر آ رہا ہے۔بعض اوقات ایسی نعمت جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا۔ یقین رکھیے۔ …